• Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 12 No 1 (2021)

    مجلہ نور معرفت کا 51واں  شمارہ اداریے کے علاوہ 9 مقالات پر مشتمل ہے۔ اس شمارے کا  پہلا مقالہ "اہل تشیّع کے عمدہ لسانیاتی اصولِ تفسیر" کے عنوان سے تفسیرِ قرآن کے ایسے اصولوں کا بیانگر ہے جن کی روشنی میں وہ قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہیں۔ یہ مقالہ درحقیقت قرآن فہمی کی Methodology میں تکامل اور پیش رفت کا موجب ہے۔ " انسان کی اخلاقی تربیّت  میں معرفت اوررجحان کا تعامل " کے عنوان سے اس شمارے کا دوسرا مقالہ اس بحث کا حامل ہے کہ آیا انسان کی اخلاقی تربیت میں اس کے Cognitive Dimension پر توجہ کافی ہے یا اس کے ہمراہ انسانی تمایلات کو ایک خاص سمت و سُو پر لگانا بھی ضروری ہے؟ اس شمارے کا تیسرا مقالہ "صوفیاء کی شطحات: مطالعاتی جائزہ" کے عنوان کے تحت، شطحات کے صدور کے پسِ منظر کا جائزہ لینے کے علاوہ، ان کی شرعی حیثیت کا تعین کرتا ہے۔" معاشرتی ارتقائی سفر میں تعلیم اور خواتین کا کردار " کے عنوان سے مزیّن، موجودہ شمارے کا چوتھا مقالہ انسانی سماج کے ارتقائی سفر  کے عوامل کو اجاگر کرتا ہے۔"وادی السلام کا وجود اور مصداق  " کے عنوان کے تحت اس شمارے کا پانچواں مقالہ دراصل، عالم اسلام کے ایک اہم ورثے کا تعارف پیش کرتا ہے۔  "فیض احمد فیضؔ اور مہدی جواہریؔ: مشترکہ شعری جہات" کے عنوان سے اس شمارے کا چھٹا مقالہ دو ایسے شہرہ آفاق شعراء کے افکار کا عکاس ہے جنہوں نے اپنے کلام میں انسانیّت کا مرثیہ لکھا ہے۔ موجودہ شمارے کا ساتواں مقالہ "عاشورا نویسی کے جدید رجحانات اور اس کے عوامل (1960  سے2010تک )"  کے عنوان کے تحت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کی تاریخ پر  لکھے جانے والے جدید تاریخی آثار کا تعارف پیش کرتا ہے۔اس شمارے کا آٹھواں  مقالہ "الحکم واﻷمثال ﻟﻺمام علي- علیہ السلام- وﺃثرها في الحیاۃ اﻹنسانية" کے عنوان کے تحت  حضرت امام علی علیہ السلام کے عظیم خطبات اور فرمودات سے جواہر پاروں کا ایسا انتخاب ہے جو انسانی زندگی کی جہت کے تعین میں انتہائی موٴثر ہیں۔   The Effect of Wisdom on the Academic Performance of  College Students  کے عنوان کے تحت اس شمارے کے آخری مقالے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آیا طلباء اور طالبات میں عقل ودانشمندی کے اعتبار سے کوئی فرق پایا جاتا ہے یا نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ مجلہ نور معرفت کے 51ویں شمارے کے یہ متنوّع مقالات ہمارے قارئین کےلئے علمی اور عملی زندگی میں انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal NOOR-E-MARFAT
    Vol 11 No 4 (2020)

    عصرِ خاتمیّت اور غیبت   میں اسلامی فقہ و فقاہت کی داستان ، قرآن و سنّت میں اجتہاد اور جدّوجہد کی داستان ہے۔ مجلہ نور معرفت کے پچاسویں شمارے میں جہاں اسلام میں اجتہاد کے  ارتقائی مراحل  اور قرآن و سنّت سے اسلامی تعلیمات کے اخذ و استخراج کی Methodology پر تفصیلی بحث کی گئی ہے، وہاں  اسی اجتہادی روش  کی آئینہ دار ایک اہم اصولی بھی پیش کی گئی ہے جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اسلامی متون میں وارد شدہ امر ونہی کس معنی پر دلالت کرتی ہے؟ اسی طرح اسلامی حکومت کی تشکیل جیسے اہم مسئلہ پر دو معتبر شخصیات کی اجتہادی  رہیافت Approach پر ایک مقالہ شامل ہے جو روح اللہ امام  خمینیؒ اور علامہ ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نظریات کی روشنی میں اسلامی حکومت کی تشکیل کی فکری بنیادوں کو اجاگر کرتا ہے۔اس  شمارے کے چوتھے مقالے میں برِّصغیر پاک وہندمیں اشاعتِ اسلام کے حوالے سے صوفیوں کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے صوفیانہ منش کو دَورِ حاضر کی مذہبی تنگ نظری اور نسلی و لسانی منافرت کے سدّباب کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا پانچواں مقالہ عالمِ اسلام کی تین مقتدر شخصیات، امام غزالی، خواجہ نصیر الدین طوسی اور علامہ محمد اقبال  کے نظریات کی روشنی میں انسانی کردار کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتا اور کردار سازی  کے اسباب و عناصر بیان  کرتا ہے۔اس شمارے کا چھٹا مقالہ انسان کے غموں، بیماریوں، مشکلات،زمینی وآسمانی آفتوں اور بالخصوص کورونا وائرس جیسی عظیم وباء میں مبتلا ہو جانے کی صورت میں مایوس نہ ہونے کی عملی راہیں پیش کرتا ہے۔ ساتواں مقالہ اردو رسم الخط کے آغاز و ارتقاء کی داستان پر مبنی ہے جو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ لسانیات کا سیاست کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ لہذا آزاد قوموں کو ہمیشہ اپنی زبان و ادبیات اور رسم الخط کو خاص اہمیت دینی چاہیے۔ اس شمارے کا آخری مقالہ ان سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے کہ آیا آئیڈیالوجی اور قومی مفادات یکجا ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر ایسا ممکن ہے تو آیا اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی نظام اپنے اندر آئیڈیالوجی اور قومی مفادات کو یکجا رکھے ہوئے ہے یا نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ مجلہ نور معرفت کے پیش نظر شمارہ میں مقالات کا یہ تنوّع، اس شمارے کے قارئین کےلئے انتہائی معلومات افزا ثابت ہو گا۔ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 11 No 3 (2020)

    قرآن کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کا زندہ و جاودان معجزہ ہے۔ اگر مسلمان دانشور اعجاز قرآن کی چند تکراری جہات کے بیان کی بجائے لسانیات، ادبیات، تاریخ، سیاسیات، سماجیات، سائنس اور فلسفے جیسے شعبوں میں قرآنی اعجاز کی زندہ اور عصری جہات، مصادیق اور نمونے اہل دنیا کے سامنے پیش کر سکیں تو یقینا سلیم الفطرت انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن کی وحیانی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اہلِ اسلام کی صفوں میں شامل ہو جائے گی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے کا پہلا مقالہ "اعجاز قرآن کی جہات" کے عنوان سے معنون ہے۔ اس شمارے کا دوسرا مقالہ ایک اسلامی-کلامی بحث کی کفالت کرتا ہے۔ اگر "عقیدہٴ رجعت، قرآن، حدیث اور عقل کی روشنی میں" کے عنوان سے مزّین، یہ مقالہ اپنے دعویٰ کی اثبات میں کامیاب قرار دے دیا جائے تو اس کا IMPACT یہ ہے کہ یہ اُن قرآنی وعدوں کی صداقت کی دلیل بن جاتا ہے جو خداوند تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب میں اپنے خالص بندوں سے کر رکھے ہیں۔ تیسرا اور چوتھا مقالہ بالترتیب "سیرت النبیﷺ اور انسانی حقوق" اور "تشکیل معاشرہ کی اسلامی بنیادیں" کے عنوان سے مزیّن ہیں۔ ان مقالات کا مدعیٰ یہ ہے کہ سیرتُ النبیﷺ اور اسلامی تعلیمات ایسے معاشرہ کی تشکیل بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ اس شمارے کا پانچواں مقالہ  ایک مترقی انسانی سماج کی عالمی اساس یعنی عدل و انصاف کے قیام میں عدالتی نظام میں "دعویٰ (CLAIM) سے مربوط  شرعی اور وضعی قوانین کا تقابلی جائزہ " پیش کرتا ہے۔ یہ مقالہ اس مقولہ میں مملکت خدادادِ پاکستان میں وضعی قوانین میں احتمالی جھول کو برملا اور برطرف کرنے کی غرض وغایت سے لکھا گیا ہے۔ مجلہ نور معرفت کے اس تازہ شمارے کا چھٹا مقالہ " موقّت شادی: صحیحین اور فریقین کی نظر میں" کے عنوان سے مزین  ہے جو اہل فقاہت و اجتہاد کی خاص توجہ کا طالب اور معاشرے سے جنسی بے راہ روی کی روک تھام کی عملی شرعی راہیں تجویز کرتا ہے۔

    ساتواں مقالہ اپنے ضمن میں " اسلامی تعلیم و تربیت کی روشیں" بیان کرنے کا عہدیدار ہے۔ اس مقالے کا ادّعا یہ ہے کہ اسلام میں تعلیم و تربیت کی متعدد اور متنوع روشیں موجود ہیں جو متعدد اور متنوع CONDITIONS میں قابل اجراء ہیں۔ ان روشوں کو اپنا کر تعلیم و تربیت کا کام انتہائی موثر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ " دہشت گردی، اسلام اور اردوافسانہ " کے عنوان پر مجلہ نور معرفت کے اس شمارے کا آٹھواں مقالہ افسانوی ادبیات کے لب ولہجہ دنیا میں دہشت گردی کے واقعات کے پسِ پردہ عوامل کی تلاش کے باب میں ایک جاندار کاوش ہے۔  RELIGIOUS DISCURSIVE PRACTICES IN THE ESL UNDERGRADUATE CLASSROOM کے عنوان سے اس شمارے کے آخری مقالے کا تعلق بھی EDUCATION سے ہے۔ یہ مقالہ جس میں اسلام آباد کی ان تمام جامعات کو بطور سروے سائیٹ منتخب کیا گیا ہے جہاں انڈر گریجویٹ سطح پر  انگریزی کا چار سالہ نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس پیغام کا حامل ہے کہ اکثر ESLکلاس رومز میں اساتذہ کی طرف سے دینی اور مسلکی آئیڈیالوجی کی ترویج جاری رہتی ہے جو کہ مقالے کے مطابق بہترین تعلیمی نتائج کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ لہذا تعلیم کے مقتدر اداروں کےلئے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اساتذہ کو مناسب ہدایات اور رہنمائی فراہم کریں۔ہمیں امید ہے کہ ان متنوع مقالات کی اشاعت، مجلہ نور معرفت کے زیرنظر شمارے کو قارئین کےلئے انتہائی مفید شمارے کے طور پر پیش کرے گی۔ ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 11 No 1 (2020)

    انسان کی فطرت میں جہاں معنویت، کمال طلبی اور خدا جوئی رکھی گئی ہے، وہاں اس کے اندر حیوانی خواہشات وتمایلات بھی رکھ دیےگئے ہیں اور یہی وہ خطِ امتیاز ہے جو انسان کو ایک طرف حیوانوں سے اور دوسری طرف فرشتوں سے جدا کرتا ہے۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان حیوانی خواہشات کی بے مہار تکمیل سے کبھی سیر نہ ہو گا اور نہ کبھی فرشتہ بن پائے گا کہ نفس میں برائی کی طرف تمایل نہ رہے۔ افراط و تفریط کے ان دو راستوں کے درمیان انسانیت کی صراطِ مستقیم ہے۔ انسان اِس وقت صراطِ مستقیم پر اُس وقت تک ہے جب نہ بے مہار چلے،  نہ بے اختیار ہو۔ دین و شریعت انسان کی مہار اور دین کے دائرے میں رہ کر انتخاب، اس کا اختیار ہے۔ بنابریں، صراطِ مستقیم سے گمراہی یہ ہے کہ انسان اپنے انتخاب کو دین کے معیار پر ترجیح دے، حیوانی غرائز کی تکمیل میں حدّ وحدود کا لحاظ نہ رکھ، دین وشریعت اور خداوایمان کا صریح انکار کر دے یا  بظاہر دینداری کا لبادہ اوڑھ کر اپنی بے راہ روی کی توجیہات تراشے اور خدا و قیامت کے بارے میں شبہات ایجاد کرے۔ یہ حالت انسان کو صراطِ مستقیم سے ہٹا کر حیوانیت کی دلدل میں ایسا پھنساتی ہے کہ وہ اپنی بے راہ روی کو آزادی کا نام دیتا ہے اور اپنی بدعتوں کو دینی کثرتیت کا نام۔لبرل ازم اور دینی پلورل ازم کے نام و نظریات پر پیش کردہ اِن توجیہات کے پسِ پردہ ابلیس کی وسوسہ اندازی ہے۔ یہ وہ یلغار ہے جس کا ہر نسل شکار ہے۔ ایسے میں مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے کے پہلے دو مقالات اس فکری یلغار اور سافٹ وار کے سامنے انسانیت کی صراطِ مستقیم یعنی دینِ مبین اسلام کا دفاع ہیں۔

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 10 No 4 (2019)

    قرآن و سنّت دینی تحقیقات کا دائمی موضوع ہیں۔ اسلام میں قانونگذار کی حیثیت بنیادی طور پر قرآن و سنّت کو حاصل ہے۔ یقینا یہی وجہ ہے کہ  قرآن و سنّت کے ابعاد بھی اتنے وسیع، متنوع اور عمیق ہیں جتنی خداوند تعالٰی کی کائنات اور انسانی سماج وسیع، متنوع اور عمیق ہے۔  بنابریں، کائنات کے متنوع حقائق کو کشف کرنے اور انسانی سماج کے متنوع مسائل کا حل اور حکم بیان کرنے کےلئے قرآن و سنّت پر تحقیق کا کام کبھی مکمل نہیں ہوگا اور یہ موضوع، دینی تحقیقات کا دائمی موضوع رہے گا۔ اِس پسِ منظر میں ہر تحقیقی ادارے اور رسالے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے محققین کے کام کو ترجیح دے جن کی  تحریر میں قرآن و سنّت کی روشنی میں نئے حقائق اور جدید احکام بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اِس مجلہ کے زیر نظر شمارہ میں بھی قرآن کریم کی ایک قدیم تفسیر "التبیان فی تفسیر القرآن" پر نئے انداز میں نگاہ ڈالی گئی ہے اور آنے والے مفسرین کےلیے ایک قدیم تفسیر کی دقیق تفسیری روش بیان کی گئی ہیں تاکہ وہ نئے دور کے تقاضے پورا کرتے وقت، قدماء کی روش کے برتر اصولوں  کی پیروی کر سکیں۔

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 10 No 3 (2019)

    تعلیم و تربیت کا انسان سازی کے ساتھ رابطہ تسلیم شدہ ہے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے شعبۂ تعلیم کے ارباب بست و گشاد نے اس رابطے کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم نہیں کیا۔ اس کی دلیل  یہ ہے کہ ہم آج تک ایک قوم نہیں بن سکے اور رنگ و نسل اور مذہب و مسلک کی تفریق کا شکار ہیں۔ ہمارے ایک قوم نہ بن سکنے کا سبب ہماری تعلیم و تربیت میں عدمِ یکسانیت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں رائج غیرمتوازن تعلیمی نظاموں نے ہمیں ایک قوم بننے دیا، نہ  کسی برتر تہذیب کی داغ بیل ڈالنے دی۔ تاہم "دیر آید، درست آید" کے مطابق، ہمارے ملک میں ایک قومی نصاب کی بات ہو رہی ہے اور شنید ہے کہ بہت جلد  میٹرک کی سطح تک واحد تعلیمی نصاب رائج کر دیا جائے گا۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔