اخلاقی تربیّت میں معرفت اوررجحان کا تعامل

  • Muqaddar Abbas author
Keywords: اخلاقی تربیت, اخلاقی رویے, رجحان, معرفت, عواطف

Abstract

Man is the name of an independent creature searching for perfection. He cannot achieve high goals without sovereignty. But, sovereignty in itself is based on three factors of recognition, tendency and power. Man's intentional and voluntary actions do not take place without tendency and identity. In this perspective, the question of this article is whether human tendencies Is the stimulus just cognition and identity, or are the tendencies, inclinations and emotions also factors along with cognition and identity? As a result of this research, it has been proved that cognition alone is not enough for the moral training of man, but the interaction of cognition and tendency (inclinations).Both play an important role in human character and behavior.

انسان ایک ایسی خود مختار  مخلوق کا نام ہے جو کمال کی تلاش میں ہے۔ خود مختاری کے بغیر  انسان اعلیٰ اہداف  کو حاصل نہیں کر پاتا۔ لیکن خودمختاری بذات خود، معرفت، رحجان اور قدرت کے تین عناصر پر مشتمل ہے۔انسان کے ارادی و اختیاری کام  رجحان اور شناخت و آگاہی  کے بغیر وقوع پذیر نہیں ہوتے۔اس پسِ منظر میں اس مقالے کا سوال یہ ہے کہ آیا انسانی  رجحانات کا محرک  فقظ معرفت و شناخت ہے یا معرفت و شناخت کےساتھ تمایلات و رجحانات اورعواطف   بھی عوامل ہیں ؟ اس تحقیق کے نتیجہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انسان کی اخلاقی تربیت کے لئے  صرف معرفت کافی نہیں ہے بلکہ معرفت اور رجحان کا باہمی تعامل ہے۔انسانی کردار و رفتار میں دونوں اہم کردار کی  حامل ہیں۔

References

۔ مصباح یزدی ،محمد تقی،فلسفہ تعلیم و تربیت اسلامی،( تہران،انتشارات مؤسسہ فرھنگی مدرسہ برہان(انتشاراتِ مدرس)۱۳۹۰ش ،۳۴۳۔
2۔ شریف، سید رضی، نہج البلاغہ، ترجمہ:مفتی جعفر حسین، مکتوب 31،المعراج کمپنی لاہور ،۲۰۰۳عیسوی،۶۰۱۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ،فلسفہ تعلیم و تربیت اسلامی، ۳۴۴ ۔
۔ ایضاً ، ۳۴۴۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ، اخلاق در قرآن،ج ۱، (قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش ) ۱۵،۲۵۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ، بہ سویِ خود سازی، (قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،چاپ۴ ،۱۳۸۴ش ) ۔۵۸،۷۸
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ، خود شناسی برای خود سازی(قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۸۲ش ) ۱۱۰۔
۔شیخ عباس قمی،سفينةالبحار، جلد 1، 15،سن ندارد
۔ مرتضیٰ ،مطہری، مسئلہ شناخت،انتشاراتِ صدرا ،قم،۱۳۶۸ ش ، ۱۶۔
۔محمد تقی ،مصباح یزدی ،فلسفہ تعلیم و تربیت اسلامی ، ۱۶۴،۱۶۷ ۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ،بہ سویِ خود سازی، ۵۹۔
۔ راغب، اصفہانی،مفردات القرآن، ج ۱،ترجمہ مولانا عبدہ فیروزپوری،لاہور،ناشر:شیخ شمس الحق،،۱۳۹۰ھج ، ۳۴۱
۔ناصرمکارم، شیرازی ،تفسیر نمونہ،ج ۱۴،ترجمہ؛سید صفدر حسین نجفی،(لاہور مصباح القرآن ٹرسٹ،معراج دین پرنٹرز،۱۴۱۷ھج، ۱۴۷۔
۔مجتبیٰ مصباح،فلسفہ اخلاق:مبانی اندیشہ اسلامی۴، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش)۲۳۔
۔ راغب، اصفہانی،مفردات القرآن، ج ۱،ترجمہ مولانا عبدہ فیروزپوری ،۳۹۷ ۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ،فلسفہ تعلیم و تربیت اسلامی ، ۳۰ ۔
۔ مرتضیٰ ،مطہری، مسئلہ شناخت، ۱۶۔
۔ محمد بن مکرم، ابنِ منظور، لسان العرب، داراحیاء التراث العربی،لبنان ،بیروت،۱۴۰۸ق ، ۱۵۳ ۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ،آموزش فلسفہ، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش ،۱۵۶
۔ ایضاً، ۱۷۵،۱۸۸
۔ مرتضیٰ ،مطہری ،اصول فلسفہ و روشِ رئالیسم ،ج۲،انتشارات صدرا،قم،۱۳۹۰ش،۴۴۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ، معارف قرآن ۱،خدا شناسی ، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش ، ۴۶ ۔
۔ محمد بہشتی،مبانی تربیت از دید گاہِ قرآن ،سازمان انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی،تہران،۱۳۸۶ ش، ۳۰۹۔
۔ محمد تقی ،مصباح یزدی ، آموزش فلسفہ،ج ۱، ۱۴۷۔
۔ مرتضیٰ ،مطہری، مسئلہ شناخت، ۲۶۔
۔ محمد بہشتی ، مبانی تربیت از دید گاہِ قرآن، ۳۴۶۔
۔ زینب،کبیری ، مبانی و شیوہ ھای تربیت اخلاقی در قرآن،انتشارات زینا،قم،۱۳۹۱ش ،۱۷۰ تا ۱۷۳
۔ مطہری ، مرتضیٰ ،استفادہ از انسان کامل،انتشارات صدرا،قم،۱۳۹۰ش، ۱۳۳تا ۱۳۶
۔ محسن علی نجفی، بلاغ القرآن، ،معراج دین پرنٹنگ پریس،لاہور، چاپ۲۰۰۷، ۳۵۔
۔ مصباح یزدی ،محمد تقی، اخلاق در قرآن،ج ۱، ۱۵۶۔
۔ راغب ،اصفہانی،مفردات القرآن، ،ترجمہ مولانا عبدہ فیروزپوری ،ج۱،،۴۲۹،۔
۔ ایضاً،۵۸۸۔
۔محمد تقی،مصباح یزدی ،معارف قرآن ،انسان شناسی، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش ،ج ۳، ۴۱۲۔
۔ ایضاً، ۴۲۰،۴۲۵۔
۔ ایضاً
۔ محمد تقی،مصباح یزدی ، آذرخشى دیگر از آسمان کربلا، ، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۸۲ش ،( ۱۷ و۸ا)۔؛ محمود ،رجبی ،انسان شناسی، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش
۔ محمد تقی،مصباح یزدی ، بہ سویِ خود سازی، ۶۰
۔ محمدباقر، حجتى،روان شناسى از دیدگاه غزالى و دانشمندان اسلامى، ج 2،۱۳۶۷ش،دفترنشرفرهنگ اسلامى، تہران ، ۱۴۱
۔ محمدتقى ،مصباح یزدى، معارف قرآن، جلد 3، انسان شناسى،۴۱۳
۔ محمود علیلو، مجید،بررسى آزمائشی اثر خُلق بر حافظه،پایان نامه کارشناسى ارشد ،۱۳۷۳ش،انستیتوروان پزشکى،دانشگاه تهران،۱۸
۔ منصور ،محمود، دیدگاه پیاژه درگستره تحول روانى، مؤسسہ انتشارات بعثت،تہران،۱۳۹۱ش،۱۴۷
۔ مصباح یزدی ،محمد تقی، استفادہ از آذرخشى دیگر از آسمان کربلا، ، ۱۷
۔ ایضاً (24,25)
۔ مصباح یزدی،محمد تقی،انسان سازی در قرآن، قم،انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینیؒ،۱۳۹۸ش ، ۲۸۱۔
.G.C Dunbar, and W.A. Lishman, Depression, recognition, memory and hedonic tone .A signal detection analysis. British journal of Psychiatry, (1984). https://doi.org/10.1192/bjp.144.4.376
۔ ابو جعفر محمد ابن علی( شیخ صدوق)من لا یحضرہ الفقیہ،قم،جامعہ مدرسین،چاپ دوم،ج۴، ، حدیث ۵۸۱۲، ۳۸۰۔
۔ سید شریف ،رضی، نہج البلاغہ، ترجمہ:مفتی جعفر حسین، خطبہ ۱۰۷، ۲۷۳۔
۔دانیل گلمن، هوش عاطفى و نقش حیاتى آن، ترجمه حمیدرضا بلوچ،،تہران،انتشارات اژدھای طلائی ،۱۳۸۹ش، فصل اول ،۴۷۔

Published
2021-04-01